30 اکتوبر 2010 - 20:30

جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا مقابلہ طاقت سے نہیں مذاکرات سے ہوسکتا ہے۔

شمالی وزیرستان بارود کا ڈھیر ہے اسے آگ دکھانے والا خود بھی اڑ جائے گا۔منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے نومنتخب عہدیداروں داروں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹیجک مذاکرات ،ڈائیلاگ نہیں امریکی ڈکٹیشن ہیں امریکہ بھارت کا وکیل بن کر کشمیر پر ثالثی نہ کرے تو بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے جو لوگ انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ سید منورحسن نے کہا کہ انقلاب رویوں میں تبدیلی کا نام ہے، افراتفری کا نہیں۔ خطے میں امریکہ کا عمل دخل بڑھ گیا ہے اور ملٹری آپریشن ڈو مور کا نتیجہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔

/110